جمعہ 3 جولائی 2026 - 14:16
رہبر شہید کی تشییع جنازہ کے موقع پر قم میں 75 ایمبولینسز، صحرائی اسپتال اور ہزاروں طبی اہلکار زائرین کی خدمت کے لیے تیار

حوزہ/ قم یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر علی ابرازہ نے کہا ہے کہ رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع اور الوداعی تقریب کے موقع پر 6 اور 7 جولائی کو صوبے کا پورا طبی نظام ہائی الرٹ رہے گا، جبکہ 75 ایمبولینسز، متعدد صحرائی اسپتال اور ہزاروں طبی اہلکار زائرین کو طبی سہولیات فراہم کریں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر علی ابرازہ نے کہا ہے کہ رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع اور الوداعی تقریب کے موقع پر 6 اور 7 جولائی کو صوبے کا پورا طبی نظام ہائی الرٹ رہے گا، جبکہ 75 ایمبولینسز، متعدد صحرائی اسپتال اور ہزاروں طبی اہلکار زائرین کو طبی سہولیات فراہم کریں گے۔

ڈاکٹر علی ابرازہ نے بتایا کہ قم میں ہونے والی رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع کے پیش نظر 6 جولائی کی شام سے تہران، اراک، ہمدان، کاشان اور دیگر علاقوں سے زائرین کی بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے، جس کے لیے جامع طبی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں سے 75 ایمبولینسز قم پہنچ چکی ہیں، جبکہ شاہراہوں پر قائم تمام ایمرجنسی مراکز کی استعداد دو سے تین گنا بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مسجد مقدس جمکران جانے والے راستوں پر 15 بس ایمبولینسز بھی تعینات کی جائیں گی۔

ڈاکٹر ابرازہ کے مطابق زائرین کی طبی سہولت کے لیے مسجد مقدس جمکران میں 50 بستروں پر مشتمل ایک صحرائی اسپتال، پارکنگ نمبر 3 میں 60 بستروں کا خصوصی صحرائی اسپتال اور جمکران کے قریب "طہورا" طبی مرکز مکمل طور پر فعال رہے گا، جہاں آپریشن تھیٹر اور خصوصی علاج کی سہولت بھی موجود ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ خوراک کی تیاری اور تقسیم کے مراکز کی نگرانی کے لیے 60 صحت ٹیمیں بھی تعینات کی جائیں گی، جبکہ تمام سرکاری، نجی اور خیراتی اسپتال مکمل ہائی الرٹ پر ہوں گے اور غیر ضروری آپریشن عارضی طور پر ملتوی کر دیے گئے ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان دو دنوں کے دوران تقریباً 2 ہزار 800 نرسیں، 400 سے زائد ڈاکٹرز اور ماہرین اپنی خدمات انجام دیں گے، جبکہ ہلالِ احمر، فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ادارے بھی طبی ٹیموں کے ساتھ مل کر زائرین کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha